دوسرے مذاہب کی مقدس کتب کا ان کی اپنی زبان یا ترجمے میں مطالعہ کرنے سے بین المذاہب مکالمے (Interfaith Dialogue) کو فروغ ملتا ہے۔
The Torah is not only a holy book but also a rich source of Jewish history, culture, and tradition. Its stories, poems, and teachings have shaped the Jewish identity and continue to inspire Jews around the world. The Torah is studied by Jews of all ages, and its text is often read in synagogues and homes.
تورات تاریخِ انسانی اور ادیانِ عالم کی اہم ترین کتب میں شمار ہوتی ہے۔ اردو زبان میں اس کا مطالعہ نہ صرف مذہبی معلومات میں اضافہ کرتا ہے بلکہ مختلف مذاہب کے درمیان مشترکات اور اخلاقی اصولوں کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
For a deep review, these are the most significant versions currently available: About | Urdu Geo Version torah holy book in urdu
اس حصے میں بنی اسرائیل کی مصر میں غلامی، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں مصر سے فرار (خروج)، بحیرہ احمر کا پھٹنا، اور کوہِ سینا پر الٰہی احکامات (بشمول دس احکام یا Ten Commandments) کا نزول مذکور ہے۔
Urdu exegesis (Tafsir) often discusses the Taurat in the context of prophecies. A significant aspect of Urdu religious writing focuses on the belief that earlier scriptures foretold the coming of the Prophet Muhammad.
'Bible.com' یا 'YouVersion' جیسی ویب سائٹس اور ایپس پر "کتابِ مقدس" کا اردو ورژن دستیاب ہے، جہاں آپ عہدِ عتیق کے تحت تورات کی پانچوں کتابیں پڑھ سکتے ہیں۔ دوسرے مذاہب کی مقدس کتب کا ان کی
پاکستان اور ہندوستان کی بائبل سوسائٹیز نے عہد نامہ قدیم کا آسان اردو زبان میں ترجمہ شائع کیا ہے، جو کتابی شکل کے ساتھ ساتھ اب انٹرنیٹ اور موبائل ایپلی کیشنز پر بھی دستیاب ہے۔
This public link is valid for 7 days and shares a thread, including any personal information you added. This link or copies made by others cannot be deleted. If you share with third parties, their policies apply. Can’t copy the link right now. Try again later.
تورات: یہودی مذہب کی مقدس کتاب اور اردو میں اس کا مطالعہ This link or copies made by others cannot be deleted
یہودی روایات کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ سینا پر نازل کی، جب وہ بنی اسرائیل کو مصر کی غلامی سے نجات دلانے کے تقریباً 50 دن بعد وہاں پہنچے۔ روایت ہے کہ یہ واقعہ یہودی کیلنڈر کے مطابق 2448 میں پیش آیا۔
اس کتاب میں کائنات کی تخلیق، حضرت آدم اور حوا کا قصہ، طوفانِ نوح، اور بنی اسرائیل کے آباء و اجداد (حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام) کے حالات زندگی بیان کیے گئے ہیں۔