History Of Pakistan From 1857 To 1947 Notes In Urdu | Cross-Platform PROVEN |
ہندوؤں نے اس تقسیم کے خلاف شدید احتجاج کیا، بائیکاٹ تحریکیں چلائیں اور تشدد کا راستہ اپنایا۔
ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قوموں کا وجود صرف جغرافیہ سے نہیں، بلکہ نظریہ، ایمان، اتحاد اور تنظیم سے قائم ہوتا ہے۔
برصغیر کی سیاست میں اہم تبدیلیاں آئیں اور کئی اہم واقعات نے پاکستان کی آزادی کی راہ ہموار کی۔
(جیسے قراردادِ پاکستان یا سرسید کی خدمات) پر مزید تفصیل چاہتے ہیں؟ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
بنگال کی تقسیم (1905ء) اور کانگریس کے متعصبانہ رویے کے بعد، مسلمانوں نے اپنی سیاسی نمائندگی کے لیے 30 دسمبر 1906ء کو ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ
شیرِ بنگال اے کے فضل الحق نے قرارداد پیش کی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کو ملا کر ایک آزاد اور خود مختار ریاست قائم کی جائے۔ یہ قرارداد بعد میں "قراردادِ پاکستان" کے نام سے مشہور ہوئی۔
اکتوبر 1939ء میں جب دوسری جنگِ عظیم کی وجہ سے کانگریسی وزارتوں نے استعفیٰ دیا، تو مسلمانوں نے قائدِ اعظم کی اپیل پر 22 دسمبر 1939ء کو "یومِ نجات" منایا۔ 13۔ قراردادِ پاکستان (23 مارچ 1940ء) history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
بنارس میں ہندوؤں نے اردو کی جگہ ہندی کو سرکاری زبان بنانے کا مطالبہ کیا، جس سے سرسید احمد خان کو یقین ہو گیا کہ ہندو اور مسلمان اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ 1875ء: علی گڑھ تحریک (Aligarh Movement)
انتظامی بنیادوں پر بنگال کی تقسیم جس سے مسلمانوں کو فائدہ ہوا لیکن ہندوؤں کی مخالفت کی وجہ سے 1911 میں اسے منسوخ کر دیا گیا۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح کی کوششوں سے کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان معاہدہ ہوا۔ کانگریس نے مسلمانوں کے جداگانہ طریقہ انتخاب کو تسلیم کیا۔ قائد اعظم کو "ہندو مسلم اتحاد کا سفیر" کہا گیا۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
مسلمانوں کو جدید تعلیم (انگریزی زبان) کی طرف راغب کیا تاکہ وہ انگریزوں کے برابر آ سکیں۔ ایم اے او کالج (MAO College) قائم کیا جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا۔
ناکامی کے بعد مسلمانوں کو شدید عتاب کا نشانہ بنایا گیا، جس سے "دو قومی نظریہ" کی بنیاد پڑی۔
سرسید احمد خان نے مسلمانوں کو جدید تعلیم اور سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیا تاکہ وہ پہلے تعلیمی طور پر مستحکم ہو سکیں۔ 1905ء: تقسیمِ بنگال (Partition of Bengal)
۱۸۶۷ء میں اردو ہندی تنازع کے وقت سر سید نے پہلی بار واضح کیا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں جو اکٹھی نہیں رہ سکتیں۔